اجرِ کثیر

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پچھلی قوموں میں ایک شخص کی روح قبض کرنے کے بعد فرشتوں نے اس سے کہا کہ کوئی نیکی کا کام بھی کیا ہے؟ تو اس نے جواب میں کہا کہ مجھے یاد نہیں ہے۔ فرشتے پھر کہیں گے کہ یاد کرو۔ تو وہ جواب میں کہے گا کہ ایک نیکی یاد ہے کہ میں لوگوں کو قرض دیتا تھا اور جب قرض واپس لینے کا وقت ہوتا تھا تو اپنے غلاموں کو یہ حکم دیتا تھا کہ دیکھنا جو تنگ دست ہو، اس کو مزید مہلت دے دینا اور جو قرض ادا نہ کر سکتا ہو، اس کو معاف کر دینا۔ اللہ نے اس عمل پر اس کو جنت میں داخل کر دیا*۔ “ [صحح مسلم]

” *نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ایک شخص نے مسلمانوں کے راستے میں ایک کانٹے دار شاخ کو دیکھا تو اس نے کہا کہ اللہ کی قسم! میں اسے مسلمانوں کے راستے سے صاف کر دوں گا تا کہ کسی مسلمان کو تکلیف نہ ہو۔ تو اللہ نے اس عمل پر اسے معاف کر دیا اور جنت میں داخل کر دیا۔* “ [مسند احمد]

” *نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس شخص نے ہر فرض نماز کے بعد آیت الکرسی پڑھنے کو اپنا معمول بنا لیا تو اس کے جنت میں داخل ہونے میں صرف ایک ہی رکاوٹ ہے، اور وہ اس کی موت ہے*۔ “ [صحیح الجامع]

” *نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں اس شخص کو جنت کے کنارے گھر کی بشارت دیتا ہوں کہ جو جھگڑا چھوڑ دے، چاہے اپنے آپ کو حق پر سمجھتا ہو۔ اور اس کو جنت کے وسط میں گھر کی بشارت دیتا ہوں جو جھوٹ کو چھوڑ دے، چاہے مزاح میں ہی کیوں نہ ہو۔ اور اس شخص کو جنت کے اعلی درجوں میں گھر کی بشارت دیتا ہوں کہ جو اپنے اخلاق کو بلند کر لے*۔ “ [سنن ابی داود]

” *نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں اور یتیم کی کفالت کرنے والا جنت میں ایک ساتھ ہوں گے۔ اور آپ نے شہادت کی انگلی اور درمیانی انگلی سے اِس طرح اشارہ کر کے دکھایا کہ ان دونوں کے مابین کچھ فاصلہ تھا۔*“ [صحیح البخاری]

” *حضرت ابو ہریرۃ  سے مروی ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ جب میں اپنے بندے کے جگر گوشے کی روح قبض کر لوں تو اس پر صبر کا بدلہ میرے پاس صرف جنت ہے*۔“ [صحیح البخاری]

” *نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایا کہ جو مجھے اپنی شرم گاہ اور زبان، دو چیزوں کی حفاظت کی ذمہ داری دیتا ہے تو میں اسے جنت کی ضمانت دیتا ہو*۔ “ [صحیح البخاری]

” *نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ایک عمرہ دوسرے عمرہ تک تمام گناہوں کا کفارہ ہے اور مقبول حج کی جزا تو جنت ہے*۔ “ [موطا امام مالک]

” *نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس کا آخری کلام لا الہ الا اللہ ہو گا، وہ جنت میں داخل ہو گا۔* “ [سنن ابی داود]

” *جنت میں ایک شخص کا درجہ اچانک بلند کر دیا جاتا ہے* *تو وہ یہ پوچھتا ہے* *کہ ایسا کیوں ہوا ہے؟ تو اسے جواب دیا جاتا ہے کہ تمہاری اولاد نے تمہارے لیے مغفرت کی دعا کی ہے*۔“

[سنن ابن ماجہ]

Please follow and like us: